زیست اس درجہ مہربان ہے میاں ہر قدم پر اک امتحاں ہے میاںسہمی سہمی ہوئی فغاں ہے میاںچہرہ چہرہ دھواں وھواں ہے میاںیادیں وعدے تصورات حیاتبوجھ دل پر بہت گراں ہے میاںاک شاخ بریدہ ہوں میں نویدمجھ میں باقی نمو کہاں ہے میاں