Sad Poetry
Agnabi doost
bheigi palkein
bheigi palkien
لگتا نہیں ہے دل میرا اُجڑے دیار میں
خاموشی سے بکھرنا آ گیا ہے
کبھی راستے جدا جدا رہے
بادل کس کا درد
کھلے آسمان کے نیچے
میر تقی میر کی زمین میں
رنجش ہی سہی، دل ہی دُکھانے کے لیئے آ
اس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے
بنا گُلاب تو کانٹے چُبھا گیا اِک شخص
اشک چل پڑے تو
یہ درد ایسا نہیں
دل سے خفا ہو جاؤں
Pages: << < 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 [20] 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 > >>
Total 541